تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، SMEs کے لیے سہولیات — وفاقی بجٹ جون میں پیش ہوگا
📊 بجٹ 2025-26 کیا لائے گا؟ اہم اعلانات
راولپنڈی چیمبر آف کامرس میں منعقدہ پری بجٹ سیمینار میں وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے کاروباری برادری کو خوش خبری سنائی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت آئندہ پاکستان فیڈرل بجٹ 2025-26 میں ٹیکس نظام کو آسان بنانے، کاروبار کو فروغ دینے اور تنخواہ دار طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔
گزشتہ دو برسوں میں اپنائی گئی مالیاتی نظم و ضبط کی پالیسیوں کی بدولت پاکستانی معیشت میں استحکام آیا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری ہوئی ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ یہاں تک کہ علاقائی کشیدگی اور عالمی معاشی دباؤ کے باوجود پاکستانی روپیہ مستحکم رہا۔
💼 تنخواہ دار طبقے اور ٹیکس دہندگان کو ریلیف
بجٹ 2025-26 میں سب سے اہم پہلو تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف ہے۔ RCCI کے صدر عثمان شوکت نے اس ضمن میں مطالبہ کیا کہ:
- ۱سپر ٹیکس کا مکمل خاتمہ کیا جائے
- ۲کارپوریٹ اور سیلز ٹیکس میں نمایاں کمی لائی جائے
- ۳تنخواہ دار طبقے کے لیے قابلِ ٹیکس آمدن کی کم از کم حد بڑھائی جائے
- ۴کاروباری لاگت میں کمی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں
- ۵پائیدار معاشی ترقی کے لیے طویل المدتی صنعتی پالیسی ترتیب دی جائے
🏭 SMEs اور چھوٹے ایکسپورٹرز کے لیے خوشخبری
وزیرِ مملکت نے بتایا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کے لیے خصوصی سہولیات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم اقدام یہ ہے کہ چھوٹے ایکسپورٹرز کے لیے درآمدی خام مال استعمال کرنے کی مدت 18 ماہ تک بڑھا دی گئی ہے، جس سے کاروباری سائیکل میں نرمی آئے گی اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
✈️ PIA نجکاری مکمل — مزید ادارے قطار میں
وزیرِ مملکت نے نجکاری کے عمل کے حوالے سے اہم انکشاف کیا کہ PIA کی نجکاری مکمل ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ تین پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ بلال اظہر کیانی کے مطابق ان سرکاری اداروں کی بہتری کا واحد راستہ نجکاری ہی ہے اور پرائیوٹائزیشن کمیشن اس مقصد کے لیے سرگرم عمل ہے۔
"حکومت کی اولین ترجیح برآمدات میں اضافہ اور معیشت کو مضبوط بنانا ہے تاکہ پاکستان مستقل بنیادوں پر آئی ایم ایف پروگرامز سے نجات حاصل کر سکے۔"
— بلال اظہر کیانی، وزیرِ مملکت برائے خزانہ
🚫 ٹیکس افسران کی ہراسانی پر زیرو ٹالرنس
کاروباری برادری کی ایک بڑی شکایت ٹیکس حکام کی جانب سے ہراسانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی رہی ہے۔ اس معاملے پر وزیرِ مملکت نے واضح پیغام دیا کہ حکومت نے اس ضمن میں زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی ہے۔
سابق صدر سہیل الطاف نے بھی اس موقع پر سرکاری عملے کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال کے فوری خاتمے پر زور دیا اور کہا کہ کاروباری برادری کے ساتھ رویوں میں بہتری لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
🌍 IMF اور بین الاقوامی اعتماد کی بحالی
ایک اہم پہلو جو اس بجٹ میں سائے کی طرح موجود ہے وہ ہے آئی ایم ایف پروگرام۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ IMF کے ساتھ جاری معاہدے کی وجہ سے حکومت کے پاس بڑے پیمانے پر ریلیف دینے کی گنجائش محدود ہے۔ تاہم وزیرِ مملکت نے کاروباری برادری کو یقین دلایا کہ عالمی مالیاتی اداروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوا ہے اور یہ اعتماد مستقبل میں زیادہ خودمختاری کا راستہ کھولے گا۔
سابق صدر اسد مشہدی نے اس موقع پر زور دیا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنا ضروری ہے تاکہ تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
🔮 خلاصہ — بجٹ 2025-26 سے کیا توقعات رکھیں؟
پاکستان کا وفاقی بجٹ 2025-26 ایک مشکل توازن کا امتحان ہے — ایک طرف IMF کی شرائط، دوسری طرف عوام اور کاروباری طبقے کی توقعات۔ حکومت نے واضح سگنل دیا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، SMEs کے لیے سہولیات اور نجکاری کے عمل کو تیز کرنا اس بجٹ کی بنیادی ترجیحات ہیں۔
جون کے پہلے ہفتے میں پیش ہونے والا یہ بجٹ بتائے گا کہ حکومت اپنے وعدوں کو کس حد تک پورا کر سکتی ہے۔ پاکستان کی معاشی بحالی کا سفر جاری ہے اور یہ بجٹ اس سفر میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
🏷️ متعلقہ ٹیگز:
پاکستان بجٹ 2025 تنخواہ دار طبقہ ٹیکس ریلیف SMEs پاکستان PIA نجکاری IMF پاکستان بلال اظہر کیانی راولپنڈی چیمبر وفاقی بجٹ 2025-26 پاکستان معیشت برآمدات پاکستان نجکاری© 2025 پاکستان اکانومی نیوز | یہ مضمون APPخبررساں ادارے کی رپورٹ پر مبنی ہے۔


No comments:
Post a Comment