Breaking

Saturday, 24 August 2024

وہ عادتیں جن سے دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔



بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ۔ 

وہ عادتیں جن سے دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ 

دماغ اللّہ پاک کی عطاء کردہ بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت اھم اور بہترین نعمت ھے۔ دماغ ایک بہت ھی پیچیدہ مشین ھے جس میں کھربوں عصبی خلیے پائے جاتے ھیں۔ یہ بہت اھم ھونے کے ساتھ بہت نازک مشین بھی ھے۔ اسی لئے اللّہ پاک نے اس کی حفاظت کیلئے کھوپڑی بھی بنا دی۔ جتنا دماغ اھم ھے اس کی حفاظت بھی اتنی ھی اھم ھے۔ لہذا آئیے دیکھتے ھیں کہ کن عادات کی وجہ سے دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے اوران سے حتیٰ الامکان بچنے کی کوشش کریں۔ تاکہ ھمارا دماغ صحت مند رھے۔اور ھم اپنے روزمرہ کے افعال اور علمی و فکری سرگرمیاں آسانی سے سر انجام دے سکیں۔ 



کچھ عادات ایسی ہوتی ہیں جو دماغ کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں اور ذہنی تنزلی کے عمل کو تیز کر دیتی ہیں۔ وہ مندرجہ ذیل ہیں ۔ 

1. نیند کی کمی یا رات گئے تک جاگنا:                                                       نیند کی کمی یا رات کو دیر سے سونا دماغ کے لیے نقصان دہ عادات میں سے ایک ہے، جو ڈیمینشیا اور الزائمر جیسی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ اور آج کل اکثر لوگ رات گئے تک موبائل استعمال کرتے ھیں جو ان کی ذہنی صحت کے لئے ںہت نقصان دہ ثابت ھو سکتا ھے۔ 




2. سماجی تعلقات کی کمی
                                       زندگی میں دوستوں کا نہ ہونا اور اپنی فیملی کو وقت نہ دینا بھی دماغ کی صحت کے لیے مضر ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ سماجی تنہائی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

3. تمباکو نوشی
                        تمباکو نوشی کو دماغی تنزلی، علمی صلاحیت میں کمی، ڈیمینشیا، اور الزائمر کی بیماری کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا گیا ہے۔

4. شراب نوشی
                        شراب کا استعمال دماغی کارکردگی کو خراب کرتا ہے، یادداشت کو کمزور کرتا ہے، اور ڈیمینشیا جیسے حالات کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ اور جسمانی صحت کو بھی خراب کرتا ھے





5. تناؤ:
           مسلسل تناؤ دماغ کی ساخت اور اس کے افعال پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے، جو طویل مدتی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔



6. پانی کی کمی: 
                         انسان کا دماغ 75 فی صد پانی سے بنا ھوا ھے۔ جسم میں پانی کی کمی دماغ کے علمی افعال کو متاثر کرتی ہے، جس کی وجہ سے ارتکاز اور یادداشت میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

7. زیادہ شوگر والی غذا
                                    خوراک میں زیادہ چینی کا استعمال سوزش اور انسولین کی مزاحمت کا باعث بن سکتا ہے، جس سے دماغ کے علمی افعال پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

یہ عادات دماغی صحت پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں، اس لیے انہیں کم کرنے یا ترک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تاکہ ایک صحت مند دماغ حاصل کیا جا سکے جو ایک صحت مند معاشرے کا ضامن ھو۔ 



اسی طرح کے مزید مفید اور دلچسپ اور معلوماتی آرٹیکل پڑھنے کیلئے جو آپ کا معیار زندگی بہتر بنا دیں گے۔ میرے اس بلاگ کو بک مارک کرلیں اور اس بلاگ کو وزٹ کرتے رھا کریں۔ شکریہ۔ 


No comments:

Post a Comment

Adbox