پی ٹی اے کی جانب سے جاری اسکیم الرٹ میں کہا گیا ہے کہ فراڈ کرنے والے افراد خود کو سرکاری اداروں، بینکوں یا کورئیر کمپنیوں کا نمائندہ ظاہر کر کے شہریوں سے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے جعلی کالز اور ایس ایم ایس کا سہارا لیا جاتا ہے، جن کے ذریعے صارفین کو دھوکہ دے کر ان کا ذاتی ڈیٹا چوری کیا جاتا ہے۔
اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ شہری کسی بھی صورت اپنا شناختی کارڈ نمبر، ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) یا بینکنگ پاس ورڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ اسی طرح نامعلوم یا مشکوک لنکس پر کلک کرنے سے بھی سختی سے گریز کریں، کیونکہ یہ لنکس صارفین کو جعلی ویب سائٹس پر لے جا کر ان کی معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
پی ٹی اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر انہیں کسی بھی قسم کی مشکوک کال یا پیغام موصول ہو تو فوری طور پر اس کی شکایت درج کروائیں۔ اس کے لیے complaint.pta.gov.pk ویب سائٹ یا پی ٹی اے کی سی ایم ایس ایپ (گوگل پلے اور ایپل اسٹور پر دستیاب) استعمال کی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل بھی پی ٹی اے نے جعلی سمز کے اجرا کے حوالے سے اہم ہدایات جاری کی تھیں، جن میں شہریوں کو غیر مجاز مقامات سے مفت سم لینے سے منع کیا گیا تھا۔ اتھارٹی کے مطابق مفت سم کے لالچ میں بائیو میٹرک تصدیق کروانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے کسی کے نام پر اضافی سمز جاری کی جا سکتی ہیں۔
پی ٹی اے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شہری اپنے نام پر رجسٹرڈ غیر استعمال شدہ یا اضافی سمز کو فوری طور پر بلاک کروائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ فراڈ سے بچا جا سکے۔
Source. Dailyausaf.com
Published on 19 April 2026
Dear readers bookmark my this blog at


No comments:
Post a Comment